Wednesday, September 12, 2012 4:25:43 PM
177
وقت اتنا ساتھ گزارا یقین نہیں آتا
صرف خوابوں ہی کے سہارے یقین نہیں آتا
لگا رہتا ہے دھڑکا سا کہیں بھٹک نہ جاؤں
ہوش اپنے ٹھکانے ہیں اب یقین نہیں آتا
غورو فکر تنہائی نے اُجاگر کیا تو اتنا سمجھی
زندگی صرف شورو غل ہے یقین نہیں آتا
دولت ہے خودی کی پاس جھکا نہیں جاتا
اس قصور کی بھی سزا ہے یقین نہیں آتا
خزاں نے جیتے جی لباس اُن کا اُتار پھینکا
شجر سوکھے زندہ ہیں اب تلک یقین نہیں آتا
دل بنا رکھا ہے تونے سینے میں سنگ عاشی
بھرا وفا نے دامن پھر بھی یقین نہیں آتا



