dr per bhri dir sy nazrain lagay bethy hain
Sunday, September 16, 2012 4:48:14 PM
182
در پر بڑی دیر سے نظریں لگائے بیٹھے ہیں
نہیں معلوم وہ کہاں محفل جمائے بیٹھےہیں
بھولے سے کہہ دیا ہم بھلا دیں گئے
اتنی سی بات پہ مںہ چڑھائے بیٹھے ہیں
راہ میں ان کی میں تو مانندِ سایِہءابر ہوں
پل بھر کی چھاؤں سے وہ یاس لگائے بیٹھے ہیں
پیار کی منزلوں کے راستے کٹھن ہوتے ہیں
پھر کیوں انتظار میں ہم سیج سجائے بیٹھے ہیں
زبان کی گونج بھی ہیے اور اندر سناٹا ہے
کون جانے ہم دکھوں کے ڈھیر چھپائے بیٹھے ہیں
جب سے تیرے در سے اُٹھ کر چلے گئے ہم
مٹی کے ڈھیر کو گھروندا بنائے بیٹھے ہیں
تیری چاہت میں ہم نے گزارے جو حسین لحمے تھے
آج تک اُنھیں ہم دل میں بیٹھے ہیں
جبلّتِ بے وفائی نے مار ڈالا عاشی ورنہ
چار سو دوستی کے ہم ہاتھ بڑھائے بیٹھے ہیں



