ghazal
Monday, September 17, 2012 1:48:05 PM
183
ہزار ہا پیچ و خم دیکھ کے زندہ ہیں ہم
رکھنا تھا بھرم ان کا رکھے ہوئے ہیں ہم
یادیں تھیں کچھ پاس ہمارے جیون کا سرمایا ورنہ
کب کے گئے ہوتے بکھر اُدھر تم اِدھر ہم
الگ الگ چل پڑے کر کے رائیں اپنی جدا
منزل نہ ملی تمہیں بھی خوب جانتے ہیں ہم
پیار کو تیرے کر دیا شاعر بن کر عیاں
پھوٹ پڑو تم بھی کبھی یہی چاہتے ہیں ہم
اتنے قریب آئے کہ دل لوٹ لے گئے
بنا اس کی دھڑکن جی رہے ہیں ہم



