Tuesday, October 2, 2012 12:05:58 PM
193
جب بھی کبھی پیار مچلتا ہے
پھر مشکل سے دل سنبھلتا ہے
تیرے حسن کو غزل بنا دیا
تعریف پہ تیری ہی قلم اُٹھتا ہے
ہم تھے کبھی ساتھ ساتھ یہ
سوچ کر اب دل تڑپتا ہے
خوابِ فردا کیونکر نہ دیکھیں
امروز تو بےکسی میں کٹتا ہے
پاسکوں نہ بھلا سکوں اُنھیں
کاٹنے کو یہ خیال دوڑتا ہے
to be continued



