Saturday, August 18, 2012 1:47:35 PM
ان کے کہے پہ جان نثار کرتے ہیں
اپنے پن کی قائم انوکھی مثال کرتے ہیں
نہ جان پائے ان کے طور طریقے کبھی
باطن میں کچھ ظاہر کچھ بیان کرتے ہیں
انھیں وعدہ خلافی کا کمال گلہ ہیے دوستو
کبھی مالک سے بھی بے وفائی غلام کرتے ہیں
دشمن سے تو خبردار رہ سکتا ہیے انسان
مرتا ہیے جب دوستی کی آڑ میں وار کرتے ہیں
چلو بچھڑ گئے جس کسی کی غلطی سے
اب لوٹنے کا پھر سے انتظام کرتے ہیں
دھوکہ دہی میں وہ سدا کے ماہر تھے
ہم سمجھے ہم سے بہت پیار کرتے ہیں
جس بندھن سے نہ ہوا کوئی فیاض کبھی
عاشی آؤ آج سے اس کا اختتام کرتےہیں



