Tuesday, August 28, 2012 3:42:08 PM
رفاقتوں میں گزرے وقت کا حساب نہیں میرے پاس
اسی اک اُلجھن کا بس حل نہیں کوئی میرے پاس
کبھی ماضی کو کوسوں کبھی مستقبل کا میں سوچوں
دورِ حا ضر کی تلخیاں کچھ کم ہیں میرے پاس
یہ ہونٹ پھر بھی میرے پیاس سے تڑپتے رہے
جب آنکھ سے بہتا اشکوں کا دریا بھی تھا میرے پاس
اس وقت اپنے پرائے مجھ سے سب بچھڑ گئے دوستو
نہ تھا مال و متاع ۔ تھے کرب و ملال میرے پاس
اپنے اوپر بیتا سب ہلکا لگنے لگتا ہے
اپنوں کے ٹھکرائے نا اُمید سے آتے ہیں میرے پاس
چاند کی چاندنی کیوں آج مدھم سی ہے عاشی
سن نہ لئے ہوں نالے میرےاُس نے آ کر میرے پاس



