Sunday, May 20, 2012 5:39:40 AM
ہم اہل مسالک کو بار بار ائمہ کرام کے اقوال کا آئینہ دکهایا جاتا ہے. لیکن یہ چهپا لیا جاتا ہے کہ ائمہ نے یہ باتیں کن سے کہی تهیں. اپنے اصحاب اور سامنے بیٹهے شاگردوں سے. یا پهر راہ گیروں اور عوام الناس سے.
¤ کسی بات کو بهی سیاق و سباق اور اسکے اپنے موقع محل سے الگ کر کے پیش کیا جائے تو وہ بات اپنے اصل معنی اور مطلب کهو دیتی ہے. اور یہ سب سے بڑا ظلم ہوتا ہے جو صاحب کلام پر کیا جاتا ہے. اپنی بات دوسرے کے منہ میں ٹهوسنا. قائل کی بات کا رخ ہی بدل دینا اگر دینی امور سے متعلق ہو تو قرآن اسے تحریف قرار دیتا ہے. اور ایسا کرنے والا یہودیوں کی صف میں جا کهڑا ہوتا ہے. اپنی غرض حاصل کرنے کے لئے بات بدل دینا یہودیوں کا محبوب مشغلہ تها. قرآن نے اسے اس طرح بیان کیا : " یحرفون الکلم عن مواضعه " یہ بات کے معنی اور مطلب کچهہ سے کچهہ کر دیتے ہیں.
افسوس اور دکھ کے ساتهہ کہتا ہوں کہ اپنے ناپاک ارادے پورے کرنے کے لئے اگر اس زمانے میں کسی نے اس یہودی روش کی کما حقہ پیروی کی ہے تو وہ یہی شتر بے مہار غیر مقلد ہیں. یہ سنی سنائی ہوتی اور آپ بیتی نہ ہوتی تو اتنا دکهہ نہ ہوتا. عقل حیران ہے کہ قرآن و سنت کے نام پر ( المغضوب علیہم ) کی عادت ایک مسلمان کیونکر اپنا سکتا ہے سوائے اسکے کہ اسکی فطرت مسخ ہو جائے اور اپنے منتخب بندوں سے حسد اور عداوت کے نتیجے میں اللہ اسکے اندر یہودی صفات پیدا کر دے.
¤ ہمکو ایک جاہل مطلق نے اپنے کمنٹس میں بار بار اقوال ائمہ کا آئینہ دکهایا. شاہ ولی اللہ ع.ر. کی کتاب ( اﻹنصاف ) کی دہائی دی. علامہ ابن قیم کی اندهی تقلید کرتے ہوے میری طرف جهوٹ منسوب کیا. یہ سب کیا اس مسخ فطرت انسان نے. لیکن محدثین کی ان تصریحات کو قبول نہیں کیا جو تقلید کے حوالے سے اس جاهل مطلق کے سامنے پیش کی گئی تهیں. اسکو یہ قبول ہی نہیں کہ سکے کے دو رخ ہوتے ہیں. مرغے کی دو ٹانگ ہوتی ہیں. خود پڑا لکها ہوتا تو شاید ضمیر کبهی کسی مقام پر تو سوچنے پر مجبور کرتا کہ ایک ہی بات سے متعلق جب دو متضاد قول ہیں تو نا پسند کا انکار اور پسندیدہ پر اصرار کسی طرح بهی درست نہیں. کیا صحیح ہے کیا غلط اسکا پتہ خود محدثین کی سوانح سی لگایا جائے. یہ بندہء خدا اتنا سوچ پاتا اور محدثین کی سوانح پر مشتمل ائمہء جرح و تعدیل محدثین کرام کی کتابوں کے ورق الٹتا پلتا تو یہ کهلی آنکهوں دیکهہ لیتا کہ مجتہدین کے علاوہ باقی سارے محدثین فقہی مسائل میں چاروں ائمہء فقہاء میں سے کسی نہ کسی کے دامن سے وابستہ ہیں. یہ دیکهتا کہ محدثین کے طبقات پر جو کتابیں خود محدثین نے تصنیف کی ہیں وہ طبقات حنابلہ مالکیہ شافعیہ اور حنفیہ کی قید سے مقید ہیں. تب تقلید کی گتهی یہ خود ہی سلجها لیتا. اور تقلید کا انکار کر کے جماعت سے خروج کر کے جماعت پر خروج نہ کرتا. لیکن معلومات ادهار کی اور وه بهی آدهی اور اپنے مطلب کی تو اب راہ سوجهے تو کس طرح. ہدایت ملے تو کیون کر. ( جاری )
¤ کسی بات کو بهی سیاق و سباق اور اسکے اپنے موقع محل سے الگ کر کے پیش کیا جائے تو وہ بات اپنے اصل معنی اور مطلب کهو دیتی ہے. اور یہ سب سے بڑا ظلم ہوتا ہے جو صاحب کلام پر کیا جاتا ہے. اپنی بات دوسرے کے منہ میں ٹهوسنا. قائل کی بات کا رخ ہی بدل دینا اگر دینی امور سے متعلق ہو تو قرآن اسے تحریف قرار دیتا ہے. اور ایسا کرنے والا یہودیوں کی صف میں جا کهڑا ہوتا ہے. اپنی غرض حاصل کرنے کے لئے بات بدل دینا یہودیوں کا محبوب مشغلہ تها. قرآن نے اسے اس طرح بیان کیا : " یحرفون الکلم عن مواضعه " یہ بات کے معنی اور مطلب کچهہ سے کچهہ کر دیتے ہیں.
افسوس اور دکھ کے ساتهہ کہتا ہوں کہ اپنے ناپاک ارادے پورے کرنے کے لئے اگر اس زمانے میں کسی نے اس یہودی روش کی کما حقہ پیروی کی ہے تو وہ یہی شتر بے مہار غیر مقلد ہیں. یہ سنی سنائی ہوتی اور آپ بیتی نہ ہوتی تو اتنا دکهہ نہ ہوتا. عقل حیران ہے کہ قرآن و سنت کے نام پر ( المغضوب علیہم ) کی عادت ایک مسلمان کیونکر اپنا سکتا ہے سوائے اسکے کہ اسکی فطرت مسخ ہو جائے اور اپنے منتخب بندوں سے حسد اور عداوت کے نتیجے میں اللہ اسکے اندر یہودی صفات پیدا کر دے.
¤ ہمکو ایک جاہل مطلق نے اپنے کمنٹس میں بار بار اقوال ائمہ کا آئینہ دکهایا. شاہ ولی اللہ ع.ر. کی کتاب ( اﻹنصاف ) کی دہائی دی. علامہ ابن قیم کی اندهی تقلید کرتے ہوے میری طرف جهوٹ منسوب کیا. یہ سب کیا اس مسخ فطرت انسان نے. لیکن محدثین کی ان تصریحات کو قبول نہیں کیا جو تقلید کے حوالے سے اس جاهل مطلق کے سامنے پیش کی گئی تهیں. اسکو یہ قبول ہی نہیں کہ سکے کے دو رخ ہوتے ہیں. مرغے کی دو ٹانگ ہوتی ہیں. خود پڑا لکها ہوتا تو شاید ضمیر کبهی کسی مقام پر تو سوچنے پر مجبور کرتا کہ ایک ہی بات سے متعلق جب دو متضاد قول ہیں تو نا پسند کا انکار اور پسندیدہ پر اصرار کسی طرح بهی درست نہیں. کیا صحیح ہے کیا غلط اسکا پتہ خود محدثین کی سوانح سی لگایا جائے. یہ بندہء خدا اتنا سوچ پاتا اور محدثین کی سوانح پر مشتمل ائمہء جرح و تعدیل محدثین کرام کی کتابوں کے ورق الٹتا پلتا تو یہ کهلی آنکهوں دیکهہ لیتا کہ مجتہدین کے علاوہ باقی سارے محدثین فقہی مسائل میں چاروں ائمہء فقہاء میں سے کسی نہ کسی کے دامن سے وابستہ ہیں. یہ دیکهتا کہ محدثین کے طبقات پر جو کتابیں خود محدثین نے تصنیف کی ہیں وہ طبقات حنابلہ مالکیہ شافعیہ اور حنفیہ کی قید سے مقید ہیں. تب تقلید کی گتهی یہ خود ہی سلجها لیتا. اور تقلید کا انکار کر کے جماعت سے خروج کر کے جماعت پر خروج نہ کرتا. لیکن معلومات ادهار کی اور وه بهی آدهی اور اپنے مطلب کی تو اب راہ سوجهے تو کس طرح. ہدایت ملے تو کیون کر. ( جاری )


