My Opera is closing 3rd of March

love is life

سیکس مستی

Subscribe to RSS feed

غزل رات آنکھوں میں ڈھلی پلکوں پر جگنو آئے.....ھم ھواؤں کی طرح جا کے اسے چھو آئے......اس کا دل دل نہیں پتھر کا کلیجا ھوگا......جس کو پھولوں کا ہنر آنسوؤںکا ہنرآئے.....بس گئی ھے میرےاحساس میں یہ کیسی مہک......کوئی خوشبو میں لگاؤں تیری خوشبو آئے.....آج کے موضوع کے بارے میں کیا خوبصورت شعر ھے.....خوبصورت ھیں بہت دنیا کے جھوٹے وعدے.....پھول کاغذ کے لیے کانچ کے بازو آئے......اس نے چھو کے مجھے پھر پتھر سے انسان کر دیا......مدت بعد میری آنکھوں میں آنسو آئے.....آگ لہرا کے چل رہے سے آنچل کردو تم مجھے رات کا جلتا ھوا جنگل کردو.....چاند سا مصرہ اکیلا ھے میرے کاغذ پر.......چھت پہ آجاؤ میرا شعر مکمل کردو.......میں تمہیں دل کی سیاست کا ہنر دیتا ھوں......اب اسے دھوپ بنادو مجھے بادل کردو......اپنے آنگن کی اداسی سے ذرا بات کرو......نیم کے سوکھے ھوئے پیڑ کو صندل کردو.....تم مجھے چھوڑ گے تو مر جاؤں گا.......یوں کرو جانے سے پہلے مجھے پاگل کردو